Ancient well of Ruma in Madinah illustration
Islamic Waqiat

Hazrat Usman (R.A) & The Well of Ruma

March 17, 2026 By OrignalTV

The Crisis of Water in Madinah (مدینہ میں پانی کی قلت)

مدینہ منورہ میں جب مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے آئے (Muhajireen) تو انہیں ایک بہت بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا: پانی کی شدید قلت۔ مکہ کا پانی زمزم کی وجہ سے میٹھا تھا، جبکہ مدینہ کا پانی کھارا تھا۔ پورے شہر میں پینے کے میٹھے پانی کا صرف ایک ہی بہترین ذریعہ تھا جسے "بئرِ رومہ" (The Well of Ruma) کہا جاتا تھا۔

یہ کنواں ایک یہودی کی ملکیت تھا جو بہت ہی سخت دل تھا۔ وہ مسلمانوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتا اور پانی کا ایک قطرہ بھی مفت نہیں دیتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک مشکیزہ پانی کے بدلے وہ کئی مٹھی کھجوریں یا اناج مانگتا۔ غریب مسلمان، جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا، پانی کی بوند بوند کو ترس رہے تھے۔ یہ دیکھ کر حضور اکرم ﷺ کو بہت دکھ ہوا۔

The Prophet's Promise (حضور ﷺ کی بشارت)

ایک دن آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کے مجمع میں اعلان فرمایا:
"کون ہے جو یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے؟ میں اسے جنت میں اس سے بہتر چشمے کی خوشخبری دیتا ہوں۔"
(صحیح بخاری)۔ یہ سن کر تمام صحابہ خاموش رہے کیونکہ کنویں کی قیمت بہت زیادہ تھی اور یہودی اسے بیچنے پر راضی نہ تھا۔ لیکن ایک ہستی ایسی تھی جو اللہ کے لیے اپنی پوری دولت لٹانے کو تیار تھی۔

Hazrat Usman's Business Wisdom (حضرت عثمان غنیؓ کی کاروباری حکمت عملی)

حضرت عثمان غنی (رض)، جو اپنی سخاوت اور کاروباری ذہانت (Business Acumen) کے لیے مشہور تھے، فوراً اس یہودی کے پاس پہنچے۔ انہوں نے یہودی سے کنواں خریدنے کی بات کی۔ یہودی چونکہ اس کنویں سے بہت منافع کما رہا تھا، اس لیے اس نے صاف انکار کر دیا۔

یہاں حضرت عثمان (رض) نے ایک ایسی پیشکش کی جو یہودی مسترد نہ کر سکا۔ انہوں نے کہا: "تم پورا کنواں نہ بیچو، بلکہ آدھا کنواں مجھے بیچ دو۔ یعنی ایک دن پانی میرا ہو گا اور ایک دن تمہارا۔ قیمت تم اپنی مرضی کی مانگو۔"

یہودی نے دل میں سوچا کہ "یہ تو بہت منافع کا سودا ہے۔ عثمان (رض) بھی میری طرح پانی بیچیں گے، اس سے مجھے آدھے کنویں کی منہ مانگی رقم (12,000 درہم) بھی مل جائے گی اور میرا کاروبار بھی چلتا رہے گا۔" اس لالچ میں آ کر اس نے سودا منظور کر لیا۔

Free Water & The Jew's Defeat (مفت پانی اور یہودی کی شکست)

معاہدہ طے پا گیا۔ لیکن ہوا کچھ اور! جس دن کنواں حضرت عثمان (رض) کی باری پر ہوتا، وہ اعلان کر دیتے کہ:
"آج پانی مسلمانوں کے لیے بالکل مفت ہے، جتنا چاہو لے جاؤ۔"
مسلمان اس دن اپنی ضرورت کے مطابق دو دن کا پانی بھر لیتے۔ اگلے دن جب یہودی کی باری آتی، تو کوئی بھی اس سے پانی خریدنے نہ آتا کیونکہ سب کے پاس پہلے سے پانی موجود ہوتا تھا۔

یہودی کا کاروبار ٹھپ ہو گیا۔ اس نے دیکھا کہ عثمان (رض) تو پانی بیچ ہی نہیں رہے بلکہ اللہ کی راہ میں مفت دے رہے ہیں۔ تنگ آ کر وہ خود حضرت عثمان (رض) کے پاس آیا اور بولا: "میرا کاروبار برباد ہو گیا ہے، اب باقی آدھا کنواں بھی آپ ہی خرید لیں۔" حضرت عثمان (رض) نے مزید 8,000 درہم دے کر وہ باقی حصہ بھی خرید لیا اور اسے قیامت تک کے لیے اللہ کی راہ میں وقف کر دیا۔

حضرت عثمان (رض) نے فرمایا: "میں نے یہ کنواں مسلمانوں کے لیے خریدا ہے، اب اس کا پانی امیر، غریب اور مسافر سب کے لیے عام ہے۔"

The 1400-Year-Old Bank Account (1400 سال پرانا بینک اکاؤنٹ)

اس واقعے کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ یہ صدقہ جاریہ آج تک جاری ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کنویں کے اردگرد کھجوروں کا باغ بن گیا تھا۔ سلطنت عثمانیہ اور بعد میں سعودی حکومت کے دور میں اس باغ کی کھجوریں فروخت ہوتی رہیں اور پیسہ جمع ہوتا رہا۔

آج مدینہ منورہ میں "وقف سیدنا عثمان بن عفان" کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ موجود ہے۔ اس رقم سے ایک شاندار ہوٹل تعمیر کیا گیا ہے جس سے ہونے والی آمدنی کا آدھا حصہ غریبوں میں تقسیم ہوتا ہے اور آدھا حصہ دوبارہ حضرت عثمان (رض) کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد اکاؤنٹ ہے جو 14 صدیاں گزرنے کے بعد بھی ایک صحابی کے نام پر چل رہا ہے۔

اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

  • 1. اللہ سے تجارت (Trade with Allah):
    حضرت عثمان (رض) نے فانی دولت دے کر ابدی جنت کا سودا کیا۔ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال کبھی کم نہیں ہوتا، بلکہ کئی گنا بڑھ کر واپس ملتا ہے۔
  • 2. بہترین حکمت عملی (Wisdom):
    مومن صرف عبادت گزار ہی نہیں بلکہ ذہین بھی ہوتا ہے۔ حضرت عثمان (رض) نے اپنی کاروباری صلاحیت کو دین کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔
  • 3. صدقہ جاریہ کی طاقت:
    ایک نیک نیت سے کیا گیا کام قیامت تک ثواب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں کوئی ایسا 'وقف' کرنا چاہیے جو ہمارے مرنے کے بعد بھی زندہ رہے۔

Leave a Comment