Imam Ahmed Bin Hanbal at the Bakery with faces blurred
Islamic Waqiat

Imam Ahmed Bin Hanbal & The Baker

March 17, 2026 By OrignalTV

The Stranger in the Mosque (مسجد کا اجنبی مسافر)

امام احمد بن حنبل (رح) اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور فقہی تھے، جن کا نام پوری اسلامی دنیا میں گونجتا تھا۔ ایک دفعہ وہ سفر کے دوران ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں انہیں کوئی پہچانتا نہیں تھا۔ رات بہت زیادہ ہو چکی تھی۔

تھکاوٹ کی وجہ سے امام صاحب نے سوچا کہ رات مسجد میں گزار لوں۔ لیکن جیسے ہی وہ مسجد کے فرش پر لیٹے، وہاں کا چوکیدار (Guard) آ گیا اور اس نے سختی سے کہا: "یہاں سونا منع ہے، باہر جاؤ۔" امام صاحب نے بہت عاجزی سے کہا: "میں مسافر ہوں، صرف رات گزارنے دو۔" مگر چوکیدار نہ مانا اور انہیں مسجد سے باہر نکال کر دروازہ بند کر دیا۔

The Kindness of the Baker (نان بائی کی مہمان نوازی)

امام احمد بن حنبل مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ وہ بوڑھے تھے اور تھکے ہوئے تھے۔ سامنے بازار میں ایک نان بائی (Baker) اپنی دکان پر آٹا گوندھ رہا تھا۔ اس نے جب ایک بوڑھے مسافر کو بے یار و مددگار دیکھا تو اسے ترس آ گیا۔

اس نے آواز دی: "اے مسافر! اگر تمہارے پاس ٹھکانہ نہیں ہے، تو میری دکان میں آ جاؤ۔ یہاں گرمی بھی ہے اور تم آرام بھی کر سکو گے۔" امام صاحب خوش ہو گئے اور اس کی دکان میں چلے گئے۔

The Constant Whisper (ہر وقت استغفار)

امام صاحب ایک کونے میں لیٹ گئے، لیکن ان کی نظر اس نان بائی پر تھی۔ وہ اپنا کام کر رہا تھا—آٹا گوندھتا، روٹی بیلتا اور آگ میں ڈالتا۔ لیکن ایک چیز بہت عجیب تھی۔

وہ ہر کام کے دوران مسلسل زیرِ لب کچھ پڑھ رہا تھا۔ امام صاحب نے غور سے سنا تو وہ پڑھ رہا تھا: "استغفراللہ... استغفراللہ... استغفراللہ"۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکتا تھا۔

صبح ہوئی تو امام احمد نے اس سے پوچھا: "اے نوجوان! میں رات بھر دیکھ رہا ہوں کہ تم مسلسل استغفار کرتے ہو۔ کیا تمہیں اس عمل کا کوئی فائدہ بھی ہوا ہے؟"

The One Unanswered Prayer (ایک نامکمل دعا)

نان بائی مسکرایا اور بولا: "واللہ! میں نے جب سے استغفار کو لازم پکڑا ہے، اللہ نے میری ہر دعا قبول کی ہے۔ میں جو مانگتا ہوں، اللہ مجھے فورا عطا کر دیتا ہے۔ میری زندگی میں کوئی بھی ایسی خواہش نہیں جو پوری نہ ہوئی ہو... سوائے ایک دعا کے۔"

امام احمد نے تجسس سے پوچھا: "وہ کون سی دعا ہے جو قبول نہیں ہوئی؟"

نان بائی نے کہا: "میری بڑی خواہش ہے کہ میں وقت کے عظیم امام، امام احمد بن حنبل (رح) کی زیارت کر سکوں۔ میں نے بہت دعا کی ہے، لیکن ابھی تک میری یہ حسرت پوری نہیں ہوئی۔"

The Emotional Reveal (معجزہ)

یہ سن کر امام احمد بن حنبل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ جذبات سے مغلوب ہو گئے اور فرمایا:

"اللہ کی قسم! تمہارے استغفار نے صرف تمہاری دعا قبول نہیں کروائی، بلکہ یہ امام احمد بن حنبل کو گھسیٹ کر تمہارے دروازے تک لے آیا ہے۔ میں ہی احمد بن حنبل ہوں۔"

نان بائی حیرت اور خوشی سے رونے لگا اور امام صاحب کے قدموں میں گر گیا۔ اس کا یقین پختہ ہو گیا کہ استغفار کرنے والے کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔

اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

  • 1. استغفار کی طاقت (Power of Istighfar):
    حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص استغفار کو لازم پکڑ لیتا ہے، اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے راستہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔
  • 2. دعا کی قبولیت (Hope):
    کبھی بھی دعا سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ اسباب خود پیدا کرتا ہے۔ جیسے اس واقعے میں مسجد کے چوکیدار کا امام کو نکالنا بظاہر برا تھا، لیکن درحقیقت وہ نان بائی کی دعا کی قبولیت کا سبب بنا۔
  • 3. عاجزی (Humility):
    اتنے بڑے امام ہونے کے باوجود، انہوں نے اپنی شناخت چھپائی اور عام انسانوں کی طرح رہے۔ اللہ عاجزی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

Leave a Comment