سلطان شاہ سات سلطنتوں کا مالک تھا۔ اس کے خزانے سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات سے بھرے پڑے تھے۔ وہ دنیا کی ہر چیز خرید سکتا تھا، لیکن ایک چیز تھی جو اس کے پاس نہیں تھی، اور وہ تھی — "نیند"۔ بادشاہ کو "انسومنیا" (بے خوابی) کی بیماری تھی۔ وہ ریشم اور مخمل کے بستر پر لیٹتا، ہیرے جڑے تکیے سر کے نیچے رکھتا، لیکن رات بھر کروٹیں بدلتا رہتا۔ اس کی آنکھیں تھکن سے سرخ رہتیں، لیکن نیند اس سے کوسوں دور تھی۔
ایک دن بادشاہ نے تنگ آ کر اعلان کیا: "جو شخص مجھے صرف ایک گھنٹے کی گہری نیند بیچے گا، یا مجھے سلانے کا طریقہ بتائے گا، میں اسے سونے کے 10 بیگ انعام میں دوں گا۔" یہ سن کر دور دور سے حکیم، طبیب، جادوگر اور موسیقار آئے۔ کسی نے بادشاہ کو جڑی بوٹیاں کھلائیں، کسی نے منتر پڑھے، کسی نے مدھر سنگیت سنایا، لیکن بادشاہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہیں۔ اسے غصہ آنے لگا کہ اتنی دولت ہونے کے باوجود وہ سکون نہیں خرید سکتا۔
ایک دن محل کے دروازے پر ایک پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس لکڑہارا آیا۔ اس نے پہریدار سے کہا کہ وہ بادشاہ کا علاج کر سکتا ہے۔ بادشاہ نے اسے بلایا اور حقارت سے دیکھا۔ لکڑہارے نے کہا: "بادشاہ سلامت! نیند بازار میں نہیں بکتی، اسے کمانا پڑتا ہے۔ آپ میرے ساتھ چلیں، میں آپ کو نیند دوں گا۔"
بادشاہ لکڑہارے کے ساتھ جنگل گیا۔ لکڑہارے نے بادشاہ کے ہاتھ میں ایک بھاری کلہاڑی تھما دی اور کہا: "اس سوکھے درخت کو کاٹ دو۔" بادشاہ نے کبھی تنکا بھی نہیں اٹھایا تھا، لیکن نیند کی خاطر وہ راضی ہو گیا۔ پہلے ہی وار میں اس کے ہاتھ کانپنے لگے، لیکن وہ لگا رہا۔
دوپہر تک بادشاہ پسینے میں شرابور ہو چکا تھا۔ اس کے شاہی کپڑے مٹی سے اٹ گئے تھے اور ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اسے بہت زور کی بھوک لگ رہی تھی، جو اسے محل کے لذیذ کھانوں کے سامنے بھی نہیں لگتی تھی۔ لکڑہارے نے اسے روکھی سوکھی روٹی اور پیاز کھانے کو دیا۔ بھوک کی وجہ سے بادشاہ کو وہ کھانا دنیا کا بہترین کھانا لگا۔
شام ہوئی تو بادشاہ کا جسم ٹوٹ رہا تھا۔ لکڑہارے نے اسے ایک سخت چٹائی پر لیٹنے کو کہا۔ بادشاہ، جو مخمل کے بستر پر بھی نہیں سو پاتا تھا، سخت زمین پر لیٹتے ہی گہری نیند سو گیا۔ صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو سورج نکل چکا تھا۔ بادشاہ حیران رہ گیا کہ وہ پوری رات ایک ہی کروٹ میں سویا رہا۔ لکڑہارے نے مسکرا کر پوچھا: "بادشاہ سلامت! کیا آپ کو نیند مل گئی؟" بادشاہ نے لکڑہارے کا شکریہ ادا کیا اور کہا: "تم نے سچ کہا تھا، دولت سے نرم بستر تو خریدا جا سکتا ہے، لیکن پرسکون نیند صرف محنت اور مشقت سے ہی کمائی جا سکتی ہے۔"