Who is Bill Gates?
بل گیٹس (William Henry Gates III) وہ نام ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ وہ انسان ہیں جن کی دولت اگر تقسیم کی جائے تو دنیا کے ہر شخص کے حصے میں ہزاروں روپے آئیں گے۔ ایک مشہور کہاوت ہے: "اگر آپ غریب پیدا ہوئے تو یہ آپ کی غلطی نہیں، لیکن اگر آپ غریب مرے تو یہ سراسر آپ کی غلطی ہے۔" یہ بل گیٹس ہی کے الفاظ ہیں۔
The Prodigy Child & The Flashlight Story (بچپن کا قصہ)
بل گیٹس بچپن سے ہی ایک عام بچے نہیں تھے۔ وہ روزانہ 15، 15 گھنٹے پڑھا کرتے تھے۔ ان کی والدہ پریشان ہو کر ان کے کمرے کی بجلی بند کر دیتی تھیں تاکہ وہ سو جائیں۔
ایک رات جب ان کی والدہ چیک کرنے آئیں تو دیکھا کہ بل گیٹس ٹارچ کی روشنی میں کتاب پڑھ رہے ہیں اور پسینے سے شرابور ہیں۔ اس دن انہیں احساس ہوا کہ یہ کوئی عام بچہ نہیں بلکہ ایک "پراڈیجی" (Prodigy) ہے۔
The Newspaper Vendor Story (اخبار فروش کا واقعہ)
بل گیٹس کے امیر بننے سے پہلے کا ایک دلچسپ قصہ ہے۔ ایک بار وہ ایئرپورٹ پر تھے اور اخبار خریدنا چاہتے تھے مگر ان کے پاس کھلے پیسے نہیں تھے۔ ایک اخبار فروش نے انہیں مفت میں اخبار دے دیا۔ تین ماہ بعد دوبارہ یہی ہوا۔
سالوں بعد جب بل گیٹس دنیا کے امیر ترین آدمی بن گئے، تو انہوں نے اس اخبار والے کو ڈھونڈ نکالا اور کہا: "تم جو مانگو میں تمہیں دوں گا۔" اس اخبار والے نے جواب دیا: "سر! جب میں نے آپ کی مدد کی تھی تو میں غریب تھا، آپ میری مدد تب کر رہے ہیں جب آپ امیر ہیں۔ میری مدد آپ کی مدد سے بڑی ہے کیونکہ میں نے اپنے 'نہ ہونے' میں سے دیا تھا۔" بل گیٹس آج بھی اس واقعے کو یاد کرتے ہیں۔
Middle Seat in Economy Class (اکانومی کلاس کا سفر)
اتنی دولت ہونے کے باوجود بل گیٹس کئی سالوں تک "اکانومی کلاس" میں سفر کرتے رہے۔ ایک بار پائلٹ نے انہیں پہچان لیا اور کہا کہ سر آپ فرسٹ کلاس کی سیٹ لے لیں۔ بل گیٹس نے منع کر دیا کیونکہ وہ کتاب پڑھ رہے تھے۔
انہوں نے کہا: "اگر میں سیٹ بدلنے کے لیے اٹھا تو میرے کتاب پڑھنے کا ردھم ٹوٹ جائے گا اور میرے 5 قیمتی صفحات کا نقصان ہو جائے گا۔"
Creating The School Timetable (اسکول کا ٹائم ٹیبل)
اسکول کے دنوں میں ہیڈ ماسٹر نے انہیں ٹائم ٹیبل آٹومیٹ کرنے کا کام دیا۔ بل گیٹس نے کوڈنگ کے ذریعے ٹائم ٹیبل ایسا سیٹ کیا کہ ان کی کلاسز ان تمام دوستوں (خصوصاً لڑکیوں) کے ساتھ آئیں جن کے ساتھ وہ بیٹھنا چاہتے تھے۔ یہ ان کی ذہانت کا ابتدائی ثبوت تھا۔
The IBM Deal & Royalty Model (کاروباری ذہانت)
بل گیٹس نے زندگی کا سب سے بڑا رسک تب لیا جب IBM کے ساتھ ڈیل کی۔ سب نے مشورہ دیا کہ اپنا سافٹ ویئر انہیں بیچ کر یکمشت (One-time) پیسے لے لو۔ لیکن بل گیٹس نے "رائلٹی ماڈل" چنا۔
انہوں نے کہا: "میں سافٹ ویئر نہیں بیچوں گا، بلکہ جب بھی کوئی IBM کا کمپیوٹر خریدے گا اور میرا ونڈوز استعمال کرے گا، مجھے اس پر کمیشن (رائلٹی) ملے گی۔" اسی فیصلے نے انہیں دنیا کا امیر ترین شخص بنایا۔
Parenting & Philanthropy (بچوں کی پرورش)
بل گیٹس کی دولت 100 بلین ڈالر سے زیادہ ہے، مگر انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس دولت کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں نے بچوں کو بے تحاشہ دولت دے دی تو وہ زندگی میں کچھ کر نہیں پائیں گے۔ وہ اپنی 90 فیصد سے زیادہ دولت فلاحی کاموں (Bill & Melinda Gates Foundation) میں دے رہے ہیں۔